ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بدنظمی کا شکار ہوا ہے 'جوینائل جسٹس' کا نظام - 'ریمانڈ ہومس' ہوگئےہیں ہاوس فل 

بدنظمی کا شکار ہوا ہے 'جوینائل جسٹس' کا نظام - 'ریمانڈ ہومس' ہوگئےہیں ہاوس فل 

Sat, 29 Jun 2024 13:47:33    S.O. News Service

میسورو،29 / جون (ایس او نیوز) ملک کے اندر نوعمری میں جرم کا ارتکاب کرنے والے بچوں کو انصاف دلانے کا جو نظام ہے وہ کچھ ایسی بدنظمیوں کا شکار ہوگیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے جرائم کے لئے بھی نو عمروں کو برسہا برس تک  نہ انصاف ملتا ہے اور نہ ہی رہائی نصیب ہوتی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بچوں کو حراست میں رکھے جانے والے مراکز 'ریمانڈ ہومس' پوری طرح ہاوس فل ہو چکے ہیں۔
    
کنڑا روزنامہ وجے وانی میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق حال ہی میں میسورو یونیورسٹی کے سینٹر فار دی اسٹڈی آف ایکسکلوژن اینڈ انکلیسیزو پالیسی کے تحت لیے گئے جائزے کی رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے ذریعے بچوں کے لئے انصاف کا قانون (جوینائل جسٹس ایکٹ) اور اس کے تحت چل رہے نظام کی موجودہ صورت حال واضح ہوئی ہے۔ 
    
اس رپورٹ کے مطالعے کے ذریعے اس نظام کی خرابی اور اس سے پیدا ہونے والے منفی حالات کے تعلق سے ایک سنگین بات یہ سامنے آئی ہے کہ دہلی، بینگلورو جیسے بڑے شہروں میں کم عمر بچوں کو ریمانڈ ہوم سے ضمانت پر رہا کروانے کے لئے مجرمانہ سرگرمیوں والا مافیا متحرک رہتا ہے جو ان بچوں کو دوبارہ جرائم کی دنیا میں ملوث کرتا ہے اور ان سے مزید بڑے جرائم کا ارتکاب کرواتا ہے۔ 
    
چھوٹے جرائم کے بعد جن بچوں کو ریمانڈ ہومس میں رکھا جاتا ہے ان کے تعلقات بڑے اور سنگین جرائم انجام دینے والے نوعمر لڑکوں سے ہوجاتے ہیں اور مسلسل کئی برسوں تک وہاں رہنے کے بعد یہ بچے بھی ان ہی مجرموں کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں اور ان کی مجرمانہ ذہنیت میں مزید سختی اور پختگی آتی ہے۔ اس طرح یہ لڑکے ریمانڈ ہومس سے باہر نکلنے کے بعد اپنے آپ کو جرائم کی دنیا سے زیادہ قریب محسوس کرتے ہیں۔
    
دوسری طرف ریمانڈ ہومس، بال مندر اور آبزرویشن سینٹرس کی حالت یہ ہے کہ وہاں پر حراست میں رکھے گئے بچوں کی تعداد گنجائش سے زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ کم عمر بچوں سے سرزد ہوئے معاملات کی تحقیقات سست رفتاری سے ہوتی ہے۔ ثبوت اور گواہی کو یکجا کرنے میں ڈھیل برتی جاتی ہے۔ وارنٹ اور سمن متعلقہ افراد تک پہنچانے میں زیادہ مستعدی نہیں دکھائی جاتی۔ معاملات شنوائی کے لئے جوینائل جسٹس بورڈ کے سامنے بچوں کو پیش کرنے میں تاخیر اور کوتاہی برتی جاتی ہے جس کی وجہ سے بورڈ کو فیصلہ سنانے میں بڑا عرصہ لگ جاتا ہے۔ 
    
جائزے کے دوران ریاست کرناٹک کی صورتحال کے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اس کے مطابق یکم اپریل 2022 کے نوعمر بچوں  کے جرائم سے متعلقہ 3,438 معاملات التواء میں پڑے ہوئے تھے۔ سال 2022-23 میں 2979 نئے معاملات درج ہوئے۔ اس سے قبل چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے سامنے 6,417 معاملے تفتیش کے لئے پیش کیے گئے۔ سال 2022-23  میں کُل 4,149 معاملوں میں فیصلہ سنایا گیا۔


Share: